© Getty Images

© Getty Images

دبئی ٹیسٹ کے پہلے روز پاکستانی ون ڈے ٹیم کا اعلان ہوتے ہی امام الحق کی سلیکشن پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو گئی تھیں۔ ہرمیڈیا ٹاک میں چیف سلیکٹرز انضمام الحق سے سوال در سوال امام سے متعلق ہی پوچھا جا رہا تھا جو انکے بھتیجے ہیں۔

امام الحق کانام پاکستانی کرکٹ کے پیروکاروں کے لئے نیا نہ تھا۔ وہ انڈر نائیٹین عالمی کپ کھیلنے کے علاوہ گزشتہ برس قائد اعظم ٹرافی کے فائنل میں حبیب بینک کی جانب کراچی میں ڈبل سینچری بناکر اپنی اہلیت ثابت کر چکے تھے۔ مگر رواں برس ڈھاکہ میں ایمرجنگ ٹورنامنٹ میں ہانگ کانگ اور نیپال کے خلاف سینچریوں کے علاوہ قائد اعظم ٹرافی کے پہلے روانڈ میں ایک اور سینچری بھی بھتیجے سے زیادہ چچا کے بدخواہوں کا دل موم کرنے کے لئے کافی نہ تھی۔

بدھ کی شام ابوظبی میں سری لنکا کے خلاف تیسرے میچ میں امام الحق کے ہاتھ بلا لگنے کی دیر تھی کہ بہت سے لوگ اپنے الفاظ واپس نگلنے پر مجبور ہوتے چلے گئے۔ اکیس سالہ بائیں ہاتھ کے اوپنر نے جب پریرا کو پل کیا تو اپنے ڈیبیو پر سینچری کرنے والے سلیم الھی کے بعد وہ دوسرے پاکستانی بن گئے ۔

سلیم الھیٰ اور گوجرانوالہ کے ذکر کے علاوہ اس سینچری کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ تھا کہ بھتیجے کی طرح چچا نے بھی جسے امام چاچو انضمام کہتے ہیں اپنی پہلی ون ڈے سینچری چھبیس برس پہلے اپنے آبائی شہر ملتان میں سری لنکا کے خلاف ہی بنائی تھی۔

بیٹنگ کے بعد امام کی گفتگو میں بھی بلا کا اعتماد جھلکتا رہا ۔ مین آف دی میچ کی تقریب میں میزبان رمیز راجہ نے ان سے اردو میں سوال کیا جس کا جواب امام نے کھل کر انگریزی میں دیا۔  پھر اپنی زندگی کی پہلی پریس کانفرنس کرنے جب امام الحق شیخ زید اسٹڈیم کے میڈیا ہال پہنچے تو تالیوں سے انکا استقبال کرنے والوں میں سری لنکن اور بھارتی صحافی بھی شامل تھے ۔

امام الحق نے بتایا کہ مجھے لوگوں کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا میری انڈر نائیٹین اور ڈومیسٹک کرکٹ کی کارکردگی سب کے سامنے تھی۔ باتیں کرنا لوگوں کا کام ہے۔ میں ہر ایک کو جوابدہ نہیں بہترین جواب بلے سے ہی دیا جا سکتا ہے۔ تنقید کرنے والے سب میرے بڑے ہیں وہ بھی پاکستان کا اچھا سوچ کر ایسی باتیں کرتے ہونگے۔ آئندہ کبھی ناکامی ہوئی تو بھی تنقید ہوگی۔ ہر کرکٹر پر برا وقت آتا ہے لیکن میں ناکامی سے ڈرنے والوں میں سے نہیں۔  اسلئے ایسی باتوں کی زیادہ پرواہ نہیں کرتا مجھے خود پر اعتماد تھا جو خاندان سے ورثے میں ملا ہے۔

ا

امام نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ جب میں دبئی آیا تو بہت دباو میں تھا۔ ہر طرف سے تنقید ہو رہی تھی۔ البتہ چار پانچ دن ٹیم کے ساتھ رہنے کے بعد ساتھی کھلاڑیوں نے جس طرح کی حوصلہ افزائی کی، سرفراز، مکی اور شعیب ملک  نے بالکل محسوس نہ ہونے دیا کہ یہ میرا پہلا دورہ ہے

امام نے بتایا کہ سینچری کا کریڈٹ سب سے زیادہ محمد حفیظ کو جاتا ہے ۔ جب میں سینچری کے قریب پہنچا تو  کریمپ آنے لگے تھے لیکن محمد حفیظ نے مجھ پر زور دیا کہ سینچری ضرور کرنی ہے نہیں تو بہت ڈانٹ پڑے گی۔ حفیظ بھائی نے ہی مجھے میچ  سے پہلے ون ڈے کیپ بھی پہنائی تھی اور  اسی وقت ہی کہا تھا کہ تم آج سینچری کرو  گے۔

ظہیر عباس کے بعد نظر کی عینگ لگا کر کھیلنے والے امام الحق دوسرے پاکستانی کرکٹر ہیں ۔ اس بارے میں انہوں نے بتایا کہ میرے چشمے کا ایک نمبر دوسرے سے مختلف ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں امام الحق کا کہنا تھا میری کامیابی میں سب سے زیادہ ہاتھ میرے باپ کا ہے۔ میری والدہ میرے کرکٹ کھیلنے کے خلاف تھیں لیکن والد نے کرکٹ کھیلنے کی خاطر اسکول سے بنک مارنے میں بھی مدد کی۔ کرکٹ میں سخت حالات سے نمٹنے میں چچا انضمام سے رہنمائی حاصل کی۔میں کرکٹ میں کسی کھلاڑی کا پیروکار نہیں لیکن یونس خان اور شعیب ملک سے متاثر ہوں۔ یونس نے جس طرح اپنے کیریر میں کبھی ہار نہ مانی اور شعیب ملک موجودہ ٹیم کے ہر کھلاڑی کی برے وقت میں مدد کررہے ہیں۔