© Getty Images

© Getty Images

ڈومیسٹک کرکٹ کسی بھی ملک کے کرکٹ ڈھانچےکی جڑ ہوتی ہے۔ جہاں سے کھلاڑی نکھر کرسامنے آتےہیں۔ عالمی سطح پر کھلاڑیوں کی کارکردگی میں ڈومیسٹک کرکٹ کا کردار اہم سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کا فرسودہ نظام آج کرکٹ کی تباہی کا باعث بنتاجا رہا ہے، پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں خراب کارکردگی کی وجہ ڈومیسٹک دھانچے کو قرار دیا جاتا ہے۔

پاکستان ٹیم کواگلے سال ایک ٹیسٹ کے لئے آئرلینڈ اور انگلیںڈ کا دورہ کرنا ہے۔ کھلاڑیوں کو’’ڈیوک بال‘‘ سے ہم آہنگ کرانے کے لئے ملک کے سب سے بڑے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ ’’قائداعظم ٹرافی‘‘ میں انگلینڈ کی بنائی جانے والی گیند کا استعمال کیا جارہا ہے، لیکن جس مقصد کیلئے ڈیوک گیندیں اس ٹورنامنٹ میں استعمال کی جارہی ہے وہ پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا کیوں کہ قومی ٹیم میں شامل متعدد کھلاڑی اس ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے رہے۔

غیر ملکی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کیلئے قائد اعظم ٹرافی کے لئے بنائی جانے والی وکٹوں پر پیسرز کو تو مدد مل رہی ہے لیکن بیٹسمین کی کارکردگی خراب ہے۔ جس کی وجہ غیر معیاری پچز کو تصور کیا جارہا ہے۔ وکٹ پر گھانس ہونے سے بلے بازوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔

پاکستان ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق نے بھی پچز کے معیار پر سوالات اٹھائے، ان کا کہنا تھا کہ جس طرح کی پچ پر انہیں کھلایا جاتا ہے وہ عالمی معیار پر پورا نہیں اترتیں، وکٹ پر باؤنس نہ ہونے کے برابر ہے، چار دن کا میچ دو دن میں ختم ہورہا ہے۔ سپورٹنگ پچز بنانے کی ضرورت ہے جس سے بلےبازوں اور بولرز دونوں کو فائدہ ہوسکیں۔ مصباح نے کہا میچوں کے درمیان وقفہ بہت کم ہے، اتنے کم وقت میں کیوریٹر کیلئے اچھی وکٹ تیار کرنا ممکن نہیں۔

پچ تیار نہ ہونے کے باعث ایل سی سی اے میں کراچی اور لاہور کے درمیان میچ کا پہلا روزمنسوخ کردیا گیا تھا۔ کیوریٹز بھی وہ پچ نہیں بناپاتے جو کھلاڑیوں کو مدد دے سکیں۔ مصباح الحق نے کہا کہ اس طرح کی وکٹوں پر کھیل کر اچھے بیٹسمین ملیں گے نہ اچھے بولرز، وکٹ معیاری ہو گی تو ہی کھلاڑی عالمی معیار کی کرکٹ کھیل سکیں گے۔

ایک اور سابق کپتان راشد لطیف نے ڈیوکس گیندوں کے ساتھ قائد اعظم ٹرافی کیلئے بنائی جانے والی پچز پر بھی تنقید کی، انہوں نے کہا کہ جب تک بیٹ اور بال میں توازن نہیں ہوگا، کرکٹ اچھے ماحول میں نہیں ہوسکتی۔

راشد لطیف نے کہا کہ ہاتھ سے بنائی جانیوالی ڈیوکس گیندیں اچھی ہے ان گیندوں کی شکل بھی تبدیل نہیں ہوتی ، لیکن صرف اتنا کافی نہیں، ہماری پچز اور ڈیوک گیندوں میں کوئی ہم آہنگی نہیں۔ ڈیوکس بال سے ہم آہنگ ہونے کیلئےضروری ہے کہ ایسی وکٹیں بنائی جائیں جو بیٹسمین اور بولرز کے لئے یکساں مفید ہوں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹرمحمد وسیم کا نظریہ کچھ اور ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈیوکس گیند کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، اب تک انگلش گیند کے بارے میں کچھ برا نہیں سنا اور نہ ہی شکایات ملی ہیں، اس گیند سے بیٹسمین رنزبھی بنارہے ہیں، اسپنرز گیند گھمار رہے ہیں اور فاسٹ بولرز کی گیند سیم اور سوئنگ بھی ہورہی ہے۔ ڈیوکس گیند کو سمجھنے میں وقت لگے گا، جلد بازی میں اس پر تجزیہ کرنا ٹھیک نہیں، میرے خیال میں یہ گیند ہماری کنڈیشنز کیلئے بہترین ہے۔

سابق فاسٹ بولر اور ٹی وی پر بے لاگ تبصرے کرنیوالے تنویر احمد نے پی سی بی سے بہتر پچز بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارے بیٹسمین ٹیسٹ کرکٹ میں جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اس کی وجہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں وکٹ پر نہ رکنا ہے۔ تنویر نے کہا کہ ہماری وکٹوں پر پیسرزحاوی رہتے ہیں لیکن بیٹسمینوں کو مدد نہیں ملتی۔ پی سی بی کو وکٹ کا معیار اب تبدیل کرنا ہوگا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹرانٹرنیشنل کرکٹ ہارون رشید نے پی سی بی کا موقف دیتے ہوئے کہا کہ نئی وکٹیں بنانے میں کچھ وقت لگے گا۔ لاہور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن میں بنائی گئی پچ سے اچھے نتائج مل رہے ہیں۔ نئی وکٹ ابتدائی سیزن میں بولرز کو سپورٹ کرتی ہے لیکن بیٹسمینوں کو اس چیلنج سے مقابلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ڈیوکس گیند کے بارے میں اب تک جو بھی فیڈ بیک ملا ہے وہ حوصلہ افزا ہے۔