Wahab Riaz © Getty Images

Wahab Riaz © Getty Images

لوگوں کو صرف میرا موہالی کا اسپیل ہی کیوں یاد ہے
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سب سے تیز باولر وہاب ریاض کہتے ہیں کہ کرکٹ می اچھا برا وقت آتا ہے میری کسی فامیٹ کی کرکٹ ختم نہیں ہوئی۔ لوگوں کو صرف میرا موہالی کا اسپیل یاد ہے میں آئندہ اس سے بھی اچھے اسپیل کے لئے تیاری کر رہا ہوں۔
وہاب ریاض نے بھارت خلاف دوہزار گیارہ میں موہالی عالمی کپ سیمی فائنل میں پانچ وکٹوں کی تہلکہ خیز کارکردگی دکھائی تھی۔ انکا یوراج سنگھ کو یارک کرنا آج بھی ذہنوں کو گدگداتا ہے۔ وہاب نے دوہزار پندرہ عالمی کپ کے کوارٹرفائنل میں بھی شین واٹسن کے خلاف ایڈیلیڈ میں خوفناک اور غیرمعمولی تیز باولنگ کی تھی لیکن اس کے بعد سے وہ بجھے بجھے رہے ہیں۔ موجودہ کیلنڈر ائیر میں جمیکا ٹیسٹ کے بعد وہ پہلے پلینگ الیون سے گئے اور پھر آئی سی سی چمئنز ٹرافی میں برمنگھم میں بھارت کیخلاف ستاسی رنز دینے کی پاداش میں ون ڈے میں بھی اپنی جگہ سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ اب وہاب کی سری لنکا کے خلاف دبئی کے ڈے نائٹ ٹیسٹ کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی ہو رہی ہے۔
دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں وزڈن پاکستان کو خصوصی انٹرویو میں وہاب ریاض نے بتایا کہ انہوں نے اپنے نو سالہ کئیریر میں کئی اتر چڑھاو دیکھے ہیں جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ میری باولنگ میں مستقل مزاجی کی کمی رہی لیکن میں دوسروں سے مختلف باولر ہوں۔ مجھے تیز رفتار باولنگ کرنا ہوتی ہے جس میں بسا اوقات کنٹرول کھوجاتا ہے۔ وہاب کے بقول انہوں نے اور بھی اچھے اسپیل کئے لیکن لوگوں کو صرف موہالی کا اسپیل یاد ہے کیونکہ وہ ورلڈ کپ میچ تھا۔ کرکٹ میں اچھا برا وقت آتا ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ عالمی کپ میں بھی میری کارکردگی اچھی تھی۔ جہاں تک موہالی جیسی کارکردگی دکھانے کا تعلق ہے میں اب بھی اس کے لئے بے تاب ہوں۔میں ہمیشہ اچھے سے اچھے کی تیاری کرتا ہوں اور موہالی سے بھی اچھا اسپیل کرکےدکھا دوں گا۔
گزشتہ برس کرائی گئی اٹھاون نو بالز نے بھی وہاب ریاض کے مسائل میں اضافہ کیا جس کی وجہ سے باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں ڈیوڈ وارنر، شارجہ میں شین ڈاورچ اور اوول پر جونی بئیر سٹو کو دو دو بار آوٹ کرنا پاکستان کے لئے مہنگا سودا رہا۔ اس بارے میں وہاب نے بتایا کہ کئیریر میں دو ہزار سولہ سے پہلے اوور سٹیپنگ کبھی میرے لئے مسئلہ نہ تھی لیکن گز شتہ برس میں نے معمول سے ہٹ کر بہت کچھ کرنے کی کوشش کی جسکی وجہ سے پاوں بے قابو ہوتا رہا لیکن اب میں اس مسئلے پر آہستہ آہستہ قابو پارہا ہوں۔ موجودہ سیزن میں حسن علی، محمد عباس، عثمان شنواری اور میر حمزہ جیسے فاسٹ باولر پاکستانی ٹیم میں ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ اس بارے میں وہاب کہتے ہیں کہ نئے پیسرز کا آگے آنا پاکستان کرکٹ کے لئے حوصلہ افزا ہے۔ ہمارے درمیان ایک صحت مند مقابلے کی فضا بن رہی ہے لیکن مجھے اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ ہے۔ کارکردگی خود بخود بولے گی۔ ٹیم میں تو وہی رہے گا جو کارکردگی دکھائے گا۔
پاکستان کی جانب سے تیوں فارمیٹس کے ایک سو اکتیس میچوں میں دو سو آٹھ وکٹیں لینے والے وہاب ریاض زندگی کی بھی بتیس بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ البتہ مستقبل قریب میں وہاب کا خود کو صرف سرخ یا سفید گیند تک محدود کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فٹنس مسائل میں مبتلا لوگ ہی خود کو ٹیسٹ یا ون ڈے تک محدود کرتے ہیں لیکن مجھے اپنی فٹنس پر کوئی شک نہیں اسلئے تینوں فارمیٹس میں کھیلتا رہوں گا۔