© Wisden Pakistan

© Wisden Pakistan

پاکستان کرکٹ کی پہلی چاردہائیوں میں فاسٹ باولنگ دائیں ہاتھ کا ہی کھیل تھا۔ گل محمد اورلیاقت علی نے ان بیتے برسوں میں پاکستان کی نمائندگی ضرور کی لیکن لیفٹ آرم پیس کا وہ کبھی بھی مستند حوالہ نہ تھے۔ اب یہ حسن اتفاق ہے یا مکتب کی کرامت کہ وسیم اکرم کے جانے کے بعد پاکستان ٹیم میں آنیوالے بائیں ہاتھ کے فاسٹ باولرزکا ایک تانتا بندھا ہوا ہے۔ محمد عامر، جنید خان، وہاب ریاض سے لیکر میرحمزہ تک کتنی ہی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ اب بدھ کومارگلہ میں شاہین شاہ کے دیومالائی اور ریکارڈ شکن اسپیل کے بعد صاف لگ رہا ہے کہ ایک اور بایاں ہاتھ یہ مشعل اٹھانے کے لئے تیارہے۔

شاہین شاہ نے راولپنڈی اسٹیڈیم میں قائد اعظم ٹرافی میں اپنے ڈیبیو میچ میں 39 رنز دیکر8 وکٹیں اڑائیں اور پاکستان کا 43 سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔ شاہین شاہ کا قد چھ فٹ چارانچ ہے اورعمر صرف سترہ سال ہے۔ وہ 140 کی رفتار سے باولنگ کرتے ہیں۔ چند ماہ پہلے سوشل میڈیا پر انکی باولنگ ویڈیو کی دھوم مچ گئی تھی جس کے بعد بنگلہ دیش پریمییر لیگ نے بھی فاٹا میں پیدا ہونیوالے اس عجوبے کو اپنانے میں دیرنہیں لگائی اور دو سال کا معاہدہ کرلیا۔

وزڈن پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاہین شاہ نے بتایا کہ میں لنڈی کوتل میں پیدا ہوا اور خوش قسمت تھا کہ میرے بڑے بھائی ریاض آفریدی پاکستان سے ٹیسٹ کرکٹ کھیل چکے تھے جس کے باعث کرکٹ کو بطور کیریر اپنانے میں زیادہ مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑا۔

ریاض بھائی نے میری قدم قدم پر رہنمائی کی اور باولنگ کے بنیادی اسرارورموزسکھائے۔ شاہین شاہ کے بقول اپنے پہلے فرسٹ کلاس میچ میں 9 وکٹیں لینا میرے لئے سپنے کی طرح ہے۔ اس سے میرے پاکستان کی گرین شرٹ پہننے کے ارادوں کومزید تقویت ملے گی۔ میں پاکستانی فاسٹ باولرز کے عظیم ورثہ کا حصہ بننا چاہتا ہوں۔ میرا بنگلہ دیش پریمیر لیگ میں دفاعی چمپئن ڈھاکہ ڈائنا منائٹ کے ساتھ دوسالہ معاہدہ کرانے میں سب سے اہم کردار میرے مینٹور طلحہ ایشام کا تھا۔ اس سلسلے میں نیشنل اکیڈمی کوچ مشتاق احمد نے بھی ڈائنامنئٹ کے کپتان کمار سنگاکارا کو ای میل کی تھی۔ اب بی پی ایل ٹیم میں مجھے شاہد آفریدی، سنگاکارا۔ شکیب الحسن اور شین واٹسن جیسے ورلڈ کلاس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر بہت کچھ سکیھنے کو ملے گا۔

شاہین شاہ آفریدی نے مزید بتایا کے وہ فاسٹ باولنگ میں وسیم اکرم اور وقار یونس جیسا نام کمانا چاہتے ہیں۔

شاہین شاہ پاکستان کی انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی ٹیم کے ساتھ گزشتہ برس سری لنکا جا چکے ہیں اور اب قائد اعظم ٹرافی میں کے آرایل کی نمائندگی کررہے ہیں۔ کے آر ایل کے اسپورٹس انچارج راشد اقبال نے وزڈن پاکستان کو بتایا کہ “مجھے شاہین شاہ کی صلاحیتوں کا اندازہ انڈر16 میں ہی ہو گیا تھا۔ جس طرح اپنے پہلے میچ ایک سترہ سال کے لڑکے نے ڈیوک بال پرسوئنگ کو کنٹرول کیا وہ میرے لئے حیران کن تھا۔” راشد نے مزید بتایا کہ “کے آر ایل نے محمد آصف، محمد عرفان، راحت علی اور عبدلرزاق کے بعد شاہین شاہ کو سامنے لاکر ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی فاسٹ باولنگ کی پہچان قائم رکھی ہے۔”